ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جی ایس ٹی معاوضے کے تمام واجبات ادا کیے جائیں گے: نرملا سیتا رمن

جی ایس ٹی معاوضے کے تمام واجبات ادا کیے جائیں گے: نرملا سیتا رمن

Mon, 20 Feb 2023 11:07:57    S.O. News Service

نئی دہلی، 20/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی) اشیا اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کونسل نے ریاستوں کو جی ایس ٹی معاوضہ کے واجبات کی مکمل ادائیگی کیلئے 16982 کروڑ روپے جاری کرنے کو منظوری دینے کے ساتھ مائع گڑ (راب)، پنسل شارپنر اور کچھ ٹریکنگ آلات پر جی ایس ٹی کو کم کرنے کا آج فیصلہ کیاگیا-

وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کی زیر صدارت جی ایس ٹی کونسل کی 49ویں میٹنگ میں یہ فیصلے لیے گئے- محترمہ سیتارمن نے میٹنگ میں لئے گئے فیصلوں کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے نامہ نگاروں کو بتایا کہ جی ایس ٹی معاوضے کے پورے بقایا جات ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے-

اس کیلئے 23 ریاستوں کو 16982 کروڑ روپے جاری کیے جائیں گے- انہوں نے کہا کہ یہ جون تک کے واجبات کی ادائیگی کی جارہی ہے- یہ رقم جی ایس ٹی معاوضے کا 50 فیصد ہے اور بقیہ 50 فیصد رقم اے جی کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد جاری کی جاتی ہے-

یہ رقم ابھی تک معاوضہ فنڈ میں دستیاب نہیں ہے تاہم حکومت اپنے وسائل سے یہ رقم جاری کرے گی اور مستقبل میں یہ رقم معاوضہ سرچارج سے ہونے والے کلیکشن سے وصول کی جائے گی- اس کے ساتھ، مرکز جی ایس ٹی ایکٹ 2017 کے تحت پانچ سال کیلئے عارضی طور پر قابل قبول معاوضہ سرچارج کی پوری بقایا رقم ادا کرے گا- ابھی تک چھ ریاستوں نے اے جی رپورٹ سوپنی ہے اور ان کیلئے 16524 کروڑ روپے جاری کیے جائیں گے-راب (مائع گڑ) پر جی ایس ٹی 18 فیصد سے کم کرکے پانچ فیصد اور صفر کردیا گیا ہے-

بھارت سرکار نے 16 جون 2022کیلئے 982, کروڑ روپے کے بقایا جی ایس ٹی معاوضے کو ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے- چونکہ جی ایس ٹی معاوضہ فنڈ میں کوئی رقم نہیں ہے، اس لیے مرکز نے یہ رقم اپنے وسائل سے جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسے مستقبل کے معاوضہ سیس کی وصولی سے واپس لیا جائے گا- اس اجرا کے ساتھ مرکز جی ایس ٹی (ریاستوں کو معاوضہ) ایکٹ 2017 کے مطابق پانچ سال کیلئے واجب الادا تمام عارضی قابل قبول معاوضے کی ادائیگی کرے گا- اس کے علاوہ، مرکز ان ریاستوں کو قابل قبول حتمی جی ایس ٹی معاوضے کی بھی منظوری دے گا جنھوں نے ریاستوں کے اکاؤنٹنٹ جنرل کے ذریعہ تصدیق شدہ16,524 کروڑ روپے کے ریونیوکے اعداد و شمار فراہم کیے ہیں -


Share: